نئی دہلی9اکتوبر ( ایس او نیوز؍ایجنسی ) امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کے کاروبار میں ایک سال میں 16 ہزار گنا اضافے کے معاملے کو لے کر ایک طرف مرکزی حکومت اور بی جے پی دفاعی کردار ادا کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں وہیں جانچ کے مطالبے پر وزیراعظم نریندر مودی کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ البتہ اُدھر بی جے پی صدر امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ نے ویب پورٹل دی وائر کے خلاف 100 کروڑ کی مجرمانہ ہتک عزتی کامقدمہ درج کرادیاہے۔ پیر کے روزجے شاہ نے احمدآباد عدالت میں 100 کروڑ روپیے کامقدمہ درج کیا۔ جبکہ احمد آباد ایڈیشنل چیف میٹرو پولٹین مجسٹریٹ ایس کے گاندھی نے اس پر عدالتی جانچ کا حکم دے دیا کہ معاملے کی سماعت ہوسکتی ہے یا نہیں۔ جئے شاہ نے اپنے مقدمہ میں خبر لکھنے والی صحافی روہنی سنگھ، دی وائر کے فائونڈنگ ایڈیٹر سدھارتھ ورداراجن، سدھارتھ بھاٹیہ اور ایم کے وینو، مینجنگ ایڈیٹر مونو بینا گپتا، پبلک ایڈیٹر پامیلا فلیپوس اور فائونڈیشن فار انڈی پینڈنٹ جرنلزم کو مدعا علیہ بنایا ہے جو دی وائر نیوز پورٹل چلاتا ہے۔
معاملے کو لے کر اپوزیشن نے مرکزی حکومت پر حملے پرحملہ بول رہا ہے۔ حملے کی زدمیں امت شاہ سے لے کر وزیر اعظم مودی تک آگئے ہیں۔ کانگریس کولگتاہے کہ گجرات الیکشن سے پہلے اسے وہ مسئلہ مل گیا ہے جس کی اُنہیں تلاش تھی۔ امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کے کاروبار میں ڈرامائی اچھال لے کر دہلی، جے پور اور لکھنؤ تینوں شہروں میں پریس کانفرنس کرکے کانگریس پارٹی نے امت شاہ سے استعفیٰ طلب کیا ہے اوروزیر اعظم مودی سے خاموشی توڑتے ہوئے اس معاملے کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو مودی پر نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ مودی جی! جے شاہ زادہ، کھا گیا، آپ چوکیدار تھے یا بھاگیدار ؟
خیال رہے کہ دی وائر نیوزپورٹل نے اتوار کو ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ 2014 تک خسارے میں چلنے والی امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی کمپنی نے مرکز میں مودی حکومت کے بنتے ہی اچانک ترقی کرنی شروع کردی ہے اور محض ایک سال میں 50 ہزار کا ٹرن اوور 80.5 کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ہی ملک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔
اُدھر عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ ٹھوکنے پر دی وائر میں خبر لکھنے والی بے باک صحافی روہنی سنگھ اپنے موقف پر اٹل ہیں اور کسی بھی طرح کی دھمکیوں سے متاثر ہوئے بغیر دوٹوک لہجے میں کہہ دیا ہے کہ ہتک عزت کا معاملہ درج کرنے پر اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ انہوں نے ملک کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس خبر کو چھاپنے پر جتنی دھمکیاں انہیں دی گئی ہیں، اتنی دھمکیاں تو اُنہیں اُس وقت بھی نہیں دی گئی تھیں، جب انہوں نے سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وڈرا کے متنازع سودوں پر خبر بنائی تھی۔